Pages

Showing posts with label muslims. Show all posts
Showing posts with label muslims. Show all posts

Tuesday, October 19, 2010

Masjid Ka Ishq - A Must Read (Urdu)

ایک شخص نے یوں قصہ سنایا کہ
میں اور میرے ماموں نے حسب معمول مکہ حرم شریف میں نماز جمعہ ادا کی اورگھر کو واپسی کیلئے روانہ  ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے کچھ  فاصلے پر ایک بے آباد سنسان مسجد آتی ہے، مکہ شریف کو آتے جاتے سپر ہائی وے سے بارہا گزرتے ہوئے اس جگہ اور اس مسجد پر ہماری نظر پڑتی  رہتی ہے اور ہم  ہمیشہ ادھر سے ہی گزر کر جاتے  ہیں مگر  آج جس  چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی وہ تھی ایک نیلے رنگ کی فورڈ کار جو مسجد کی خستہ حال دیوار کے ساتھ کھڑی تھی، چند لمحے تو میں سوچتا رہا کہ اس کار کا اس سنسان مسجد کے پاس کیا کام! مگر اگلے لمحے میں نے کچھ جاننے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کار کو  رفتار کم کرتے ہوئے مسجد کی طرف جاتی  کچی سائڈ روڈ پر ڈال دیا، میرا ماموں جو عام طور پر  واپسی کا سفر غنودگی میں گزارتا ہے اس نے بھی اپنی اپنی آنکھوں کو وا کرتے ہوئے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھتا، کیا بات ہے، ادھر کیوں جا رہے ہو؟  
ہم نے اپنی کار کو مسجد سے دور کچھ فاصلے پر روکا اور پیدل مسجد کی طرف چلے، مسجد کے نزدیک جانے پر اندر سے کسی کی پرسوز آواز میں سورۃ الرحمٰن تلاوت کرنے کی آواز آ رہی تھی، پہلے تو یہی اردہ کیا کہ باہر رہ کر ہی اس خوبصورت تلاوت کو سنیں ، مگر پھر یہ سوچ کر کہ اس بوسیدہ مسجد میں جہاں اب پرندے بھی شاید نہ آتے ہوں، اند جا کر دیکھنا تو چاہیئے کہ کیا ہو رہا ہے؟
ہم نے اند جا کر دیکھا ایک نوجوان مسجد میں جاء نماز بچھائے ہاتھ میں چھوٹا سا قرآن شریف لئے بیٹھا  تلاوت میں مصروف ہے اور مسجد میں اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔  بلکہ ہم نے تو احتیاطا ادھر ادھر دیکھ کر اچھی طرح تسلی کر لی کہ واقعی کوئی اور موجود  تو نہیں ہے۔
میں نے اُسے السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا،  اس نے نطر اُٹھا کر ہمیں دیکھا، صاف لگ رہا تھا کہ کسی کی غیر متوقع آمد اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی، حیرت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
اُس نے ہمیں جوابا وعلیکم السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا۔
میں نے اس سے پوچھا، عصر کی نماز پڑھ لی ہے کیا تم نے، نماز کا وقت ہو گیا ہے اور ہم نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔
اُس کے جواب کا  انتظار کئے بغیر میں نے اذان دینا شروع کی تو  وہ نوجوان قبلہ کی طرف رخ کئے مسکرا رہا تھا، کس بات پر یا کس لئے یہ مسکراہٹ، مجھے پتہ نہیں تھا۔ عجیب معمہ سا  تھا۔
پھر اچانک ہی اس نوجوان نے ایک ایسا جملہ بولا کہ مجھے اپنے اعصاب جواب دیتے نظر آئے،
نوجوان کسی کو کہہ رہا تھا؛ مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔
میرے ماموں نے بھی مجھے تعجب بھری نظروں سے دیکھا جسے میں نظر انداز کر تے ہوئے اقامت کہنا شروع کردی۔  
جبکہ میرا دماغ اس نوجوان کے اس فقرے پر اٹکا ہوا تھا کہ  مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔
دماغ میں بار بار یہی سوال آ رہا تھا کہ یہ نوجوان آخر کس سے باتیں کرتا ہے، مسجد میں ہمارے سوا کوئی بندہ و بشر نہیں ہے، مسجد فارغ اور ویران پڑی ہے۔ کیا یہ پاگل تو نہیں ہے؟
میں نے نماز پڑھا کر نوجوان کو دیکھا جو ابھی تک تسبیح میں مشغول تھا۔
میں نے اس سے پوچھا، بھائی کیا حال ہے تمہارا؟ جسکا جواب اس نے ــ’بخیر و للہ الحمد‘ کہہ کر دیا۔
میں نے اس سے پھر کہا، اللہ تیری مغفرت کرے، تو نے میری نماز سے توجہ کھینچ لی ہے۔ ’وہ کیسے‘ نوجوان نے حیرت سے پوچھا۔
میں نے جواب دیا کہ جب میں اقامت کہہ رہا تھا تو نے ایک بات کہی مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔
نوجوان نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ اس میں ایسی حیرت والی کونسی بات ہے؟
میں نے کہا، ٹھیک ہے کہ اس میں حیرت والی کوئی بات نہیں ہے مگر تم بات کس سے کر رہے تھے آخر؟
نوجوان میری بات سن کر مسکرا تو ضرور دیا مگر جواب دینے کی بجائے  اس نے اپنی نظریں جھکا کر زمین میں گاڑ لیں، گویا سوچ رہا ہو کہ میری بات کا جواب دے یا نہ دے۔
میں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ تم پاگل ہو، تمہاری شکل بہت مطمئن اور پر سکون ہے، اور ماشاءاللہ تم نے ہمارے ساتھ نماز بھی ادا کی ہے۔
اس بار اُس نے نظریں اُٹھا کر  مجھے دیکھا اور کہا؛ میں مسجد سے بات کر رہا تھا۔
اس کی بات میرے ذہن پر بم کی  کی طرح لگی، اب تو میں سنجیدگی سے سوچنے لگا کہ یہ شخص ضرور پاگل ہے۔
میں نے ایک بار پھر اس سے پوچھا، کیا کہا ہے تم نے؟  تم اس مسجد سے گفتگو کر رہے تھے؟ تو پھر کیا اس مسجد نے تمہیں کوئی جواب دیا ہے؟
اُس نے  پھرمسکراتے ہوئے ہی  جواب دیا کہ مجھے ڈر ہے تم کہیں مجھے پاگل نہ سمجھنا شروع کر دو۔
میں نے کہا، مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے، یہ فقط پتھر ہیں، اور پتھر نہیں بولا کرتے۔
اُس نے مسکراتے ہوئے  کہا کہ آپکی بات ٹھیک ہے یہ صرف پتھر ہیں۔
اگر تم یہ جانتے ہو کہ یہ صرف پتھر ہیں جو  نہ سنتے ہیں اور نہ بولتے ہیں  تو  باتیں  کس سے کیں؟
نوجوان نے نظریں پھر زمیں کی طرف کر لیں، جیسے  سوچ رہا ہو  کہ جواب دے یا نہ دے۔
اور اب کی بار اُس نے نظریں اُٹھائے بغیر ہی کہا کہ ؛
میں  مسجدوں سے عشق کرنے والا انسان ہوں،  جب بھی کوئی پرانی، ٹوٹی پھوٹی یا ویران مسجد دیکھتا ہوں  تو اس کے بارے میں سوچتا ہوں
مجھے اُنایام  خیال آجاتا ہے جب لوگ اس مسجد میں نمازیں پڑھا کرتے ہونگے۔
پھر میں اپنے آپ سے ہی سوال کرتا ہوں کہ اب یہ مسجد کتنا شوق رکھتی ہوگی کہ  کوئی تو ہو جو اس میں آکر نماز پڑھے، کوئی تو ہو جو اس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرے۔  میں مسجد کی اس تنہائی کے درد کو محسوس کرتا ہوں کہ  کوئی تو ہو جو ادھر آ کر تسبیح و تحلیل کرے، کوئی تو ہو جو آ کر چند آیات پڑھ کر ہی اس کی دیواروں کو ہلا دے۔
میں تصور کر سکتا ہوں کہ  یہ مسجد کس قدر اپنے آپ کو باقی مساجد میں تنہا پاتی ہوگی۔  
کس قدر تمنا رکھتی ہوگی کہ کوئی آکر چند رکعتیں  اور چند  سجدے   ہی اداکر جائے اس میں۔
کوئی بھولا بھٹکا مسافر، یا راہ چلتا انسان آ کر ایک اذان ہی بلند کرد ے۔
پھر میں خود ہی ایسی مسجد کو جواب دیا کرتا ہوں کہ اللہ کی قسم، میں ہوں جو تیرا شوق پورا کرونگا۔
اللہ کی قسم میں ہوں جو تیرے آباد دنوں جیسے ماحول کو زندہ کرونگا۔
پھر میں ایسی مسجدمیں داخل ہو کر دو رکعت پڑھتا ہوں اور قرآن شریف کے  ایک سیپارہ کی تلاوت کرتا ہوں۔
میرے بھائی، تجھے میری باتیں عجیب لگیں گی، مگر اللہ کی قسم میں مسجدوں سے  پیار کرتا ہوں، میں مسجدوں کا عاشق ہوں۔
 میری آنکھوں  آنسوؤں سے بھر گئیں،  اس بار میں نے اپنی نظریں زمیں میں ٹکا دیں کہ کہیں نوجوان مجھے روتا ہوا نہ دیکھ لے،
اُس کی باتیں۔۔۔۔۔ اُس کا احساس۔۔۔۔۔اُسکا عجیب کام۔۔۔۔۔اور اسکا عجیب اسلوب۔۔۔۔۔کیا عجیب شخص  ہے جسکا دل مسجدوں میں اٹکا رہتا ہے۔۔۔۔۔
میرے پاس کہنے کیلئے اب کچھ بھی تو نہیں تھا۔
صرف اتنا کہتے ہوئے کہ، اللہ تجھے جزائے خیر دے، میں نے اسے سلام کیا، مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا کہتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔
مگر ایک حیرت ابھی  بھی باقی تھی۔
نوجوان نے پیچھے سے مجھے آواز دیتے ہوئے کہا تو میں دروازے سے باہر جاتے جاتے رُک گیا،
نوجوان کی نگاہیں ابھی بھی جُھکی  تھیں اور وہ مجھے  کہہ رہا تھا کہ جانتے ہو جب میں ایسی ویران مساجد میں نماز پڑھ لیتا ہوں تو کیا دعا مانگا کرتا ہوں؟
میں نے صرف اسے دیکھا تاکہ بات مکمل کرے۔
اس نے اپنی بات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا  میں دعا مانگا کرتا ہوں کہ
’ اے میرے  پروردگار، اے میرے  رب! اگر تو سمجھتا ہے کہ میں نے تیرے ذکر ، تیرے قرآن کی تلاوت اور تیری بندگی سے اس مسجد کی وحشت و ویرانگی کو دور کیا ہے تو اس کے بدلے میں تو میرے باپ کی قبر کی وحشت و ویرانگی کو دور فرما دے، کیونکہ تو ہی رحم و کرم کرنے والا ہے‘
مجھے اپنے جسم میں ایک سنسناہٹ سی محسوس ہوئی، اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
پیارے دوست
کیا عجیب تھا یہ نوجوان، اور کیسی عجیب محبت تھی اسے والدین سے!
کسطرح کی تربیت پائی تھی اس نے؟
اور ہم کس طرح کی تربیت دے رہے ہیں اپنی اولاد کو؟
ہم کتنے نا فرض شناس ہیں اپنے والدین کے چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت شدہ؟
بس اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں  نیک اعمال کی توفیق دے اور ہمارا  نیکی پر خاتمہ کرے، اللھم آمین

ازراہ کرم! اگر آپ کو اس msg کا موضوع اچھا لگا ہے تو اپنے ان احباب کو بھیج دیجیئے جن کا  آپ چاہتے ہیں بھلا اور فائدہ ہو جائے۔
مت بھولئے کہ نیکی کی ترغیب دلانے والے کو نیکی کرنے والے  جتنا ثواب ملتا ہے۔

کیا کبھی آپ میں سے کسی نے یہ سوچا ہے کہ موت کے بعد کیا ہوگا؟ جی ہاں موت کے بعد کیا ہوگا؟
تنگ و تاریک گڑھا، گھٹا ٹوپ  اندھیرا، وحشت و ویرانگی، سوال و جواب،  سزا و  جزا، اور پھر جنت یا دوزخ۔
یا اللہ، اس msg پڑھنے والے کے دکھ درد اور پریشانیاں دور فرما دے، اور ہر اس شخص کی بھی جو  وعظ و عبرت کیلئے اس msgکو دوسروں کو بھیجے۔
آمین یا رب العالمین۔

Monday, October 18, 2010

Word "Muhammad" Written on a Wheat Farm in Pakistan!


The name of Muhammad (saww) written on crops on a wheat farm in Kot Najaeebullah - Haripur. People are viewing this great sign from nature! 

Saturday, October 16, 2010

ESTAWOO (must read) :)






The speaker Dr.Yahya Alyahya (head of the CALL to Islam Committee) said that Muslims are never disorganized; they just need to be CONVINCED.

THEN HE TOLD A STORY OF AN AMERICAN NON MUSLIM MAN WHO WAS DISCUSSING ABOUT ISLAM WITH HIM WHILE HE WAS WATCHING LIVE BROADCAST OF SALAT ISHA FROM KAABAH, ON TV


The American man was so amazed of how crowded is the Masjid Al Haram Makkah, more than 3 million Muslims were there at the last nights of the holy month of Ramadan, so crowded, so disorganized.



The sheikh asked the Non-Muslim man: How long do you think they'll take to organize themselves in rows and start the Salaat?

He answered: at least 2-3 hours.


The sheikh said: but the masjid (HARAM) of Kaaba is 4 floors

The man said: OH, this's will make it about 12 hours then

The sheikh said: put in your mind that they are from countries all over the world with different languages.

The American man said: THEN IT's IMPOSSIBLE TO ORGANIZE THEM BY ANY MEANS!!

Then the Salaat time came and sheikh Al Sudais,Imam of Haram Makkah stood up and said, (ESTAWOO) = Arrange yourselves.





And within seconds, the whole scene changed and the crowd of 3 millions Muslims arranged themselves in well-organized rows within NO TIME !



                            

The American man stared at the TV screen for a moment, and accepted the islam.


I bear witness that there is none worthy of worship but ALLAH, and I bear witness that Mohammad is His Servant and Messenger.





Sunday, October 3, 2010

Biggest Masajids of the World - 21 Masajids

Masjid-ul-Aqsa
Bait-tul-Muqaddass, Palestine
Capacity: 5000
Year of first building: 637 AD



Masjid-e-Tooba
Karachi , Pakistan
Capacity: 5000
Year: 1969


Masjid-e- Umayya
Damascus, Syria
Capacity: 6000
Year: 705 AD


Masjid Al Fateh
Manama, Bahrain
Capacity: 7000
Year: 1987







Masjid Sultan Ahmed
Istanbul, Turkey
Capacity: 10,000
Year: 1616 A.D



Grozny Central Dome Masjid
Grozny, Republic of Chechnya
Capacity: 10,000
Year: 2008


Masjid Rome
Rome, Italy
Largest Masjid of Europe
Capacity: 12,000
Year: 1995


Emir Abdalkader Masjid
Constantine, Algeria
Capacity: 15,000
Year: 1994



Masjid Negara
Kuala Lumpur, Malaysia
Capacity: 15,000
Year: 1965


Id Kah Masjid
Kashgar, Xinjiang, China
Capacity: 20,000
Year: 1442







Sultan Qaboos Grand Masjid
Muscat , Oman
Capacity: 20,000
Year: 2001







Baitul Mukarram Masjid
Dhaka, Bangladesh
Capacity: 40,000
Year:1960







Sheikh Zayed Masjid
Abu Dhabi, UAE
Capacity: 40,000
Year: 2007


Jama Masjid Delhi
Delhi, India
Capacity: 85,000
Year: 1656







Badshahi Masjid
Lahore, Pakistan
Capacity: 100,000
Year: 1673








Hassan II Masjid
Casablanca, Morocco
Capacity: 105,000
Year: 1993


Istaqlal Masjid
Jakarta, Indonesia
Capacity: 120,000
Year: 1978


Taj-ul-Masajid
Bhopal, India
Capacity: 175,000
Year: 1901







Faisal Masjid
Islamabad, Pakistan
Capacity: 300,000
Year: 1986



Masjid-e-Nabvi S.A.W.W
Madina Munavara, Saudi Arabia
Capacity: 650,000
Year of first building: 622 A.D


Masjid Ul Haram
Makkah Mukarrama, Saudi Arabia
Capacity: 850,000
Established: 638 A.D 
(after Fatah Makkah)


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Popular Posts